حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے محرم الحرام 1448ھ کی ساتویں شب مسجد مقدس جمکران میں مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا: امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے اہداف کو سمجھنے کا بہترین طریقہ خود امام حسین علیہ السلام کے مکہ سے کربلا تک کے خطبات اور ارشادات کا مطالعہ ہے۔ کیونکہ یہ بیانات، ان کے قیام کے فلسفے کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔
انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے عاشورا کی جنگ سے پہلے کے خطبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: حضرت نے گھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کے لشکر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "میری باتوں کو سنو اور مجھے قتل کرنے میں جلدی نہ کرو تاکہ میں تمہیں موعظہ کروں اور تم پر حجت تمام کروں۔"
استادِ حوزہ علمیہ نے مزید کہا: امام حسین علیہ السلام نے اس خطبے میں دشمن کے سامنے دو راستے رکھے؛ اگر وہ حق کی بات قبول کر لیں تو کامیاب ہو جائیں گے اور اگر قبول نہ کریں تو اتمامِ حجت کے بعد جو چاہیں فیصلہ کریں۔
جامعۃ المصطفی العالمیہ کی علمی کمیٹی کے رکن نے کہا: حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے اس خطبے کے دوران قرآن کریم کی دو آیات تلاوت فرمائیں۔ انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام سے متعلق آیات اور اللہ پر توکل کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا کہ وہ شہادت سے خائف نہیں ہیں اور انہوں نے لوگوں کی ہدایت کا اپنا فریضہ پورا کر دیا ہے۔
انہوں نے اس خطبے کے سب سے اہم پیغامات میں سے ایک کو "موعظہ" کی اہمیت قرار دیتے ہوئے کہا: امام حسین علیہ السلام نے اپنی با برکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی دشمن کی ہدایت سے ناامید نہیں ہوئے۔ یہ سیرت ہم سب کے لیے ایک بڑا سبق ہے کہ ہم کبھی موعظہ اور نصیحت کے اثر سے غافل نہ ہوں۔









آپ کا تبصرہ